12 اکتوبر 2026 - 09:18
امریکی سینیٹر کا ٹرمپ کو سخت انتباہ: یمن کے خلاف جنگ میں کودنا خطے کو مزید خطرناک بنا دے گا

امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کے سینیٹر کرس مرفی نے خبردار کیا ہے کہ یمن کے خلاف نئی جنگ میں واشنگٹن کی براہِ راست شمولیت، ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بیچ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دے گی، جبکہ موجودہ جنگ پہلے ہی قابو سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،کرس مرفی نے قطر اور سعودی عرب کے حالیہ دورے کے بعد امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جنگ سے نمٹنے کی پالیسی پر شدید تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے خطے میں جو صورتحال دیکھی ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ اب قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

امریکی سینیٹر نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت جنگ کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے دوران یمن کی انصار اللہ کے خلاف ایک نئی جنگ میں واشنگٹن کی شمولیت خطے میں کشیدگی اور خطرات میں مزید اضافہ کرے گی۔

مرفی نے بحرین اور قطر میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کانگریس کے ارکان کو ان اڈوں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ان کے بقول، کانگریس کے ارکان کو فوجی تنصیبات تک رسائی سے روکنے کا مقصد جنگ کے نقصانات اور اس کی اصل قیمت امریکی عوام سے چھپانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے اخراجات اور خطے میں پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مرفی نے اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی دعویٰ کیا تھا کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی تنصیبات کے دورے سے انہیں روک دیا گیا۔ ان کے مطابق کانگریس میں 20 سالہ دور کے دوران یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ انہیں نہ صرف ایک امریکی فوجی تنصیب میں داخل ہونے بلکہ وہاں موجود فوجی کمانڈروں سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

مرفی کا کہنا ہے کہ یہ پابندی امریکی وزیر دفاع پیت ہیگسٹ کے حکم پر عائد کی گئی اور اس کا مقصد جنگ کے اخراجات اور نقصانات سے متعلق معلومات کے منظرعام پر آنے کو روکنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha